ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میسورو میں عبادت گاہوں کی انہدامی کارروائی کامعاملہ ۔ سدارمیا،پرتاب سمہا اور جی ٹی دیوے گوڈا کا اعتراض

میسورو میں عبادت گاہوں کی انہدامی کارروائی کامعاملہ ۔ سدارمیا،پرتاب سمہا اور جی ٹی دیوے گوڈا کا اعتراض

Mon, 13 Sep 2021 11:28:28    S.O. News Service

میسورو،13؍ستمبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ضلع انتظامیہ اور میسور سٹی کارپوریشن کی جانب سے شہر میں راستوں کے درمیان،پارکوں اور جنکشنوں میں تعمیر کئے گئے تمام مذاہب کی غیر قانونی عبادت گاہوں کو انہدام کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے جس پر اعتراض کرتے ہوئے میسور کے تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے میسور ضلع انتظامیہ کی جانب سے کی جارہی اس کارروائی پر اعتراض کیا ہے۔ ماہ اگست میں ریاست کے چیف سکریٹری پی روی کمار نے میسور ضلع انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق راستوں کے درمیان، فٹ پاتھ اور پارکوں میں تعمیر کردہ تمام مذاہب کی غیر قانونی عبادت گاہوں کو انہدام کرنے کی سخت تاکید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اس حکم کی تعمیل کرنے اور تاخیر کرنے کی وجہ بتانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ریاستی چیف سکریٹری کی اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور سٹی کارپوریشن نے کارروائی کرتے ہوئے علی الصباح کارروائی شروع کی اور مذہبی عبادت گاہوں کو ڈھانے کے اقدامات کئے۔ سب سے پہلے پارلیمانی حلقہ میسور و کورگ کے رکن پارلیمان پرتاب سمہا نے ضلع انتظامیہ کی کارروائی پر آواز اٹھائی تھی۔ شہر کے اگرہارا میں واقع 101گنپتی مندر میں پوجا کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کے افسروں کو عوام کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے اور عجلت میں کارروائی کرنے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ اس لئے مندروں کو ڈھانے سے پہلے ضلع انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس حکم پر از سرنو غور کرے، لیکن یہاں ضلع انتظامیہ عوام کو اعتماد میں لئے بغیر مندروں کو انہدام کرنے کی کارروائی کررہی ہے۔پرتاب سمہا نے تنبیہ کی ہے کہ وہ بہت جلد ”مندروں کو بچاؤ“تحریک کا آغاز کریں گے۔ اطلاع ملی ہے کہ 22ستمبر کوضلع انتظامیہ اگرہارا میں واقع 101گنپتی مندر کو ڈھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مندر کو1955میں تعمیر کیا گیا تھا۔ گزشتہ کئی دہوں سے شہرکے ساتھ ساتھ ضلع کے ہزاروں عوام کا اس مندر سے ایک خاص جذباتی لگاؤ ہے۔اس لئے ضلع انتظامیہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرسکتا۔ مئیر سنندا پھلا نیترا، سٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ٹی ایس سری واتسو، کارپوریٹرس ساؤ میا اور ایم یو سبیا، 101گنپتی مندر کی مجلس منتظمہ کے صدر ردرا سوامی اس موقع پر موجود تھے۔ گنانا بھارتی چامنڈیشوری کے رکن اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جی ٹی دیوے گوڈا نے بھی ضلع انتظامیہ کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ضلع انتظامیہ عوام کے صبر کا امتحان نہ لے۔ اگر عوام بغاوت پر اتر آئیں تو کیا ضلع انتظامیہ عوام کو قابومیں کر پائے گا۔؟ اس لئے عبادت گاہوں کو انہدام کرنے کی کارروائی سے پہلے ضلع انتظامیہ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو از سر نو غور کرنا چاہئے۔ ریاست میں کسی بھی ضلع کو اس طرح کی کارروائی کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی ہے تو صرف میسور ضلع کو اس طرح کی ہدایت کیوں؟ ضلع انتظامیہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کتنے تالابوں کی حفاظت کی ہے۔ تالابوں کی زمینوں پر غیر قانونی طریقوں سے کئے گئے ناجائز قبضوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ شہر میں یہ مندر کئی دہوں سے ہیں اس لئے ضلع انتظامیہ کو چاہئے وہ عوام کے جذبات کا احترام کرے۔ شہر کے عوام ہمیشہ سے پیار محبت اور شانتی کو پسند کرنے والے ہیں، ضلع کے ننجنگڈھ میں واقع ایک قدیم اور تاریخی مندر کو ڈھانے کی کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بھی اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کے ذریعہ کہا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں کو ڈھانے کی کارروائی کرنے سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی ریاستی حکومت کو مقامی عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ ننجنگڈھ میں ڈھادئے گئے مندر کی وجہ سے عوام کے مذہبی جذبات کافی مجروح ہوئے ہیں۔مقامی عوام کو اعتماد میں لئے بغیر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی قابل مذمت ہے۔


Share: